1

Talaq

Answered according to Hanafi Fiqh by Fatwaa.com
Prev Question
Next Question

اسلام و علیکم:
مجھے ایک مسائل درپیش ہے جسکی وجہ سے میں بہت پریشان ہوں. آپکی رہنمائی چاہتی ہوں کے میرا گھر ٹوٹنے سے بچ جائے. میرے شوہر اور میرے درمیان میری جیٹھانی کو لے کر ایک بار جھگڑا ہوا کیونکہ میں نے خود کو اُس کے ساتھ موازنہ کیا تھا پھر میرے شوہر نے مجھے ایسا دوبرہ کرنے سے منع کیا تھا پر مجھ سے انجانے پھر یہ غلطی ہوگئی جس پر انھوں نے بہت سخت فیسلہ کیا اُنھوں نے قسم کھائی کے اگر میں نے 6 ماہ میں دوبارہ ایسا کیا تو ہماری ایک طلاق ہوجائے گی اور رجوع نہیں کیا تو تین طلاق ہوجائے گی.
اور وہ جرمنی میں رہتے ہیں جاب کرتے ہیں میں اپنے سسرال میں رہتی ہوں اور وہ مہینوں میں آتے ہیں. اس مسلۓ کا حل بتائیں وہ اپنی قسم واپس لینا چاہتے ہیں.
براۓ مہربانی میری مدد فرمائیں
جزاک اللہ

Answer

وعليكم السلام ورحمة الله وبركاته

انسان اپنے کہے الفاظ کا ذمہ دار ہے۔ الفاظ تیر کی طرح ہوتے ہیں، ایک بار نکل جائے تو واپس نہیں لئیں جاسکتے۔ اس لئے انسان کو بولنے سے پہلے سوچنا چاہئے اور اسی لئے شریعت نے مرد کو طلاق کا ذمہ دار قرار دیا ہے، کیونکہ وہ بہ نسبت عورت کے اپنی زبان پر زیادہ قابو رکھ سکتا ہے۔
آپ کے شوہر کے ان الفاظ کو واپس لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے، آپ کو چاہئے کہ اگلے چھہ ماہ کے گزرنے کا انتظار کریں، اور ان چھہ مہینوں میں خوب خیال رکھیں کہ آپ اپنی جیٹھانی کے ساٹھ خود کا موازنہ نہ کریں، اگر آپ موازنہ نہ کریں، اور یہ چھہ ماہ گزر جائیں تو یہ مشروط طلاق خودبہ خود گر جائے گی اور آپ کا نکاح محفوظ رہےگا،

And Allaah Ta’aala knows best

Wassalaam,

Ismail Moosa (Mufti)

This answer was collected from Fatwaa.com which is an excellent Q&A site managed by Mufti Ismail Moosa from South Africa. .

Sidebar