Designing a Tourism software

Answered according to Hanafi Fiqh by DaruliftaaZambia.com

Question

Ads by Muslim Ad Network

Ads by Muslim Ad Network

Is it permissible to develop a software for a hotel, resort, travel, and tourism booking?

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

In principle, if the software has dual or multiple purposes, some of which can be used for permissible purposes and others for impermissible purposes, and your objective is to design it for a permissible objective, as for tourism, then it is permissible to develop such a software.

The income from developing such a software will be halaal.

Thereafter, if an individual or company uses the software for any impermissible activity, the responsibility of the same will be solely upon the user. [1]

And Allah Ta’āla Knows Best

 

Mufti Muhammad I.V Patel

Checked and Approved by

Mufti Nabeel Valli

Darul Iftaa Mahmudiyyah

Lusaka, Zambia

www.daruliftaazambia.com

[1]

فقه البيوع (1/311)

القسم الثالث: ما وضع لاغراض عامة ويمكن استعماله فى حالتها الموجودة فى مباح او غيره…

والظاهر من مذهب الحنفية انهم يجيزون بيع هذا القسم وان كان معظم منافعه محرما…

ولكن جواز البيع فى هذه الاشياء بمعنى صحة العقد اما الاثم فيتأتى فيه ما ذكرناه فى شروط العاقد من انه اذا كان يقصد به معصية بائعا او مشتريا فالبيع يكره تحريما وذلك اما بنية فى القلب او بالتصريح فى العقد ان البيع يقصد به محذور. اما اذا خلا العقد من الامرين ولا يعلم البائع بيقين انه يستعمله فى مجذور فلا اثم فى بيعه. وان علم البائع انه يستعمله فى محذور وكان سببا قريبا داعيا الى المعصية فيكره له البيع تحريما. وان كان سببا بعيدا لا يكره. مثل بيع الحديد من أهل الحرب أو أهل البغي

 

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 391)

(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل

المحيط البرهاني في الفقه النعماني (5/ 362)

ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها فلا بأس به؛ إذ ليس في نفس العمل معصية

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (3/ 297)

أَلَا تَرَى أَنَّ الْعَصِيرَ وَالْخَشَبَ الَّذِي يُتَّخَذُ مِنْهُ الْمَعَازِفُ لَا يُكْرَهُ بَيْعُهُ لِأَنَّهُ لَا مَعْصِيَةَ فِي عَيْنِهَا وَكَذَا لَا يُكْرَهُ بَيْعُ الْجَارِيَةِ الْمُغَنِّيَةِ وَالْكَبْشِ النَّطُوحِ وَالدِّيكِ الْمُقَاتِلِ وَالْحَمَامَةِ الطَّيَّارَةِ لِأَنَّهُ لَيْسَ عَيْنُهَا مُنْكَرًا وَإِنَّمَا الْمُنْكَرُ فِي اسْتِعْمَالِهِ الْمَحْظُورِ

کتاب النوازل جلد١٠  صفحة ٢٦٦

سافٹ ویئر محض ایک پروگرام ہے، اس کو بنانے اور فروخت کرنے میں فی نفسہٖ کوئی حرج نہیں ہے، اگر سافٹ ویئر سے کوئی شخص سودی حساب وکتاب کرتا ہے، تو اس کا وبال اس کے بنانے والے پر نہیں؛ بلکہ اس کے استعمال کرنے والے پر ہے؛ کیوں کہ یہ سافٹ ویئرس صرف سودی معاملات کے ساتھ مخصوص نہیں؛ بلکہ ہر طرح کی کمپنیوں کے حساب وکتاب کے لئے بنائے جاتے ہیں؛ اس لئے اُن کے تیار کرنے یا خرید وفروخت کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں ہے، اِسی طرح اُن کی دیکھ بھال کا ٹھیکہ لینا بھی شرعاً درست ہے

جلد١٢  صفحة ٢٩٠

ویب سایٹ پر اشتہار کلک کرنے کی اجرت لینا:

ویب سائٹ سے استفادہ کے لئے ایک ہزار روپیہ جمع کرنا ایک مستقل معاملہ ہے جو فی نفسہٖ درست ہے، اس کے بعد کمپنی سے اس ویب سائٹ پر متعین اشتہارات کا کلک کرنے پر ہر ہفتہ جو اجرت ملتی ہے، اگر شرط کے مطابق یہ معاملہ ناجائز باتوں سے متعلق ہو (جیسا کہ آج کل عام معمول ہے کہ اشتہارات میں عریاں تصاویر لگائی جاتی ہیں) تو گناہ پر تعاون کی وجہ سے یہ عمل جائز نہ ہوگا، ایسے معاملات سے مسلمانوں کو بچنا لازم ہے۔ اور اگر ایسے اشتہارات ہیں جن میں کوئی ناجائز بات شامل نہیں، تو حسبِ شرط اُن پر کلک کرنے پر متعینہ اُجرت لینا درست ہے۔


Sidebar