I opened a Tobacco retail store

Answered according to Hanafi Fiqh by AnswersToFatawa.com

About 3 years ago I opened a Tobacco retail store under my understanding that although it was “frowned upon” it was not haram. I am now being told that it has been deemed haram. I do understand why tobacco use is haram and I understand that making money from it is haram but since I did not know it was haram and cannot simply just close down my business is the money still haram. I intend to sell my business since I now know it is haram but will the money I sell it for still be haram?

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

The sale of tobacco is makrooh (disliked) and therefore the income of the sale of tobacco is also makrooh. If you sell your tobacco business, the proceeds of the sale will not be completely haraam[1], it will be makrooh[2]. We advise you purify the proceeds of the sale. You may enquire from us on that later.

 

And Allah Ta’āla Knows Best

Hafizurrahman Fatehmahomed

Student Darul Iftaa
Netherlands

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

[1]

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 454)

(وَصَحَّ بَيْعُ غَيْرِ الْخَمْرِ) مِمَّا مَرَّ، وَمُفَادُهُ صِحَّةُ بَيْعِ الْحَشِيشَةِ وَالْأَفْيُونِ.

قُلْت: وَقَدْ سُئِلَ ابْنُ نُجَيْمٍ عَنْ بَيْعِ الْحَشِيشَةِ هَلْ يَجُوزُ؟ فَكَتَبَ لَا يَجُوزُ، فَيُحْمَلُ عَلَى أَنَّ مُرَادَهُ بِعَدَمِ الْجَوَازِ عَدَمُ الْحِلِّ.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 454)

(قَوْلُهُ وَصَحَّ بَيْعُ غَيْرِ الْخَمْرِ) أَيْ عِنْدَهُ خِلَافًا لَهُمَا فِي الْبَيْعِ وَالضَّمَانِ، لَكِنَّ الْفَتْوَى عَلَى قَوْلِهِ فِي الْبَيْعِ، وَعَلَى قَوْلِهِمَا فِي الضَّمَانِ إنْ قَصَدَ الْمُتْلِفُ الْحِسْبَةَ وَذَلِكَ يُعْرَفُ بِالْقَرَائِنِ، وَإِلَّا فَعَلَى قَوْلِهِ كَمَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة وَغَيْرِهَا.

ثُمَّ إنَّ الْبَيْعَ وَإِنْ صَحَّ لَكِنَّهُ يُكْرَهُ كَمَا فِي الْغَايَةِ

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 459)

فِي الزَّوَاجِرِ لِابْنِ حَجَرٍ مَا نَصُّهُ: وَحَكَى الْقَرَافِيُّ وَابْنُ تَيْمِيَّةَ الْإِجْمَاعَ عَلَى تَحْرِيمِ الْحَشِيشَةِ. وَقَالَ: وَمَنْ اسْتَحَلَّهَا فَقَدْ كَفَرَ. قَالَ: وَإِنَّمَا لَمْ يَتَكَلَّمْ فِيهَا الْأَئِمَّةُ الْأَرْبَعَةُ لِأَنَّهَا لَمْ تَكُنْ فِي زَمَنِهِمْ، وَإِنَّمَا ظَهَرَ فِي آخِرِ الْمِائَةِ السَّادِسَةِ وَأَوَّلِ السَّابِعَةِ حِينَ ظَهَرَتْ دَوْلَةُ التَّتَارِ اهـ بِحُرُوفِهِ فَلْيُتَأَمَّلْ (قَوْلُهُ وَالتُّتْن إلَخْ) أَقُولُ: قَدْ اضْطَرَبَتْ آرَاءُ الْعُلَمَاءِ فِيهِ، فَبَعْضُهُمْ قَالَ بِكَرَاهَتِهِ، وَبَعْضُهُمْ قَالَ بِحُرْمَتِهِ، وَبَعْضُهُمْ بِإِبَاحَتِهِ، وَأَفْرَدُوهُ بِالتَّأْلِيفِ. وَفِي شَرْحِ الْوَهْبَانِيَّةِ لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ: وَيُمْنَعُ مِنْ بَيْعِ الدُّخَانِ وَشُرْبِهِ وَشَارِبُهُ فِي الصَّوْمِ لَا شَكَّ يُفْطِرُ

عصر حاضر ميں اطباء کا اتفاق ہے کہ سگريت نوشی جسم کے لےضرر رساں ہے اس ايے قديم زمانہ ميں بھی علماء کرام نے سگريت نوشی کو مکروہ قرار ديا تھا،بايں وجہ اس کی تجارت بھی ہے اس لے اجتناب کرنا چائے (فتاوي دار العلوم زكريا، ج5، ص134 )

جواب: خريد و فروخت کے سلسلہ ميں اصول يہ ہے کہ جو چيز جائز ہو ،اس کا بيچنا جائز ہے، جو چيز حرام اور مکروہ ہو اس کا بيچنا بھی مکروہ ہے،پھر اس کے استعمال کرنے ميں جس درجے کی کراھيت ہوگی ، فروخت کرنے ميں بھی اس درجے کی کراھت ہوگی،سگريت بيڑی گٹکھا صحت کہ لے مضر ہے،اس لے کم سے کم کراھت سے خالی نہيں،پھر ان ميں جو چيز جس درجے مضر ہوگی ،ان کو فروخت کرنے ميں سگريٹ سے زيادہ کراھت ہوگی(کتاب الفتاوی:5/201)

سگرٹ کی تجارت جائز ہے ( احسن الفتاوی، ج6، ص495 )

سگریٹ اور تمباکو کی تجارت جائز ہے اور اس کا نفع میں استعمال میں لانا حلال ہے (کفایت المفتی، ج9، ص148 )

بيبع  کے بارے میں اصل یہ ہے کہ جس شئ کا کوئ جائز استعمال ممکن ہو اس کی بیع جائز ہے چاہے وہ چیز عام طور سے ناجائز کام میں استعمال ہوتی ہو – (اسلام اور جدید معاشی مسائل، ج4، ص17 )

[2]

بدکار عورت نے حرام مال سے زمین خریدی ہے اس کو قران شریف کے عوض ہبہ کرنا درست ہے یا نہیں؟

زن کاسبہ نے مال حرام سے جو زمین خریدی تھی اسکی وہ مالک ہو

گئ مگر خباثت اور براںی اس میں ضرور ہے پھر جب اس زمین کو ھبہ کیا تو موھوب لہ یا مشتری اسکا مالک ہو گیا، اس میں قرآن شریف کی معاذ اللہ نہیں ہے، اور اس زمین کے ہبہ یا بیع کر نے کے لیے کسی حیلے کی ضرورت نہیں ہے –

فتاوی دار العلوم دیوبند (15/250) دار الاشاعت

مذکورہ سوال کی صورتوں میں زید کے لیے وہ آمدنی اور نفع جو روپیہ مذکورہ کے ذریعہ سے تجارت میں حاصل ہو حلال ہے – (فتاوی دار العلوم دیوبند، ج15، ص55 )9

Facebooktwitterpinteresttumblrmail
Sidebar