Is there punishment for celebrating birthday’s?

Answered according to Hanafi Fiqh by AnswersToFatawa.com

Question is there punishment towards it if someone celebrate birthday

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

There are three aspects to a birthday:

  1. It is a means to record ones day of birth
  2. It is a means to express ones happiness for life to Allah
  3. Celebrating birthdays as is common nowadays by cutting a cake, burning candles and singing happy birthday songs.

The first two aspects of birthdays are permissible. One may record his birthday and express happiness on that day. However, it is not permissible to celebrate birthdays as is commonly done nowadays.

Family and friends may also congratulate the person by giving him duas[1]. [2]

 

And Allah Ta’āla Knows Best

Hafizurrahman Fatehmahomed

Student Darul Iftaa
Netherlands

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

[2]

سالگرہ یا دداشت عمر اطفال کے واسطے کچہ حرج نہیں معلوم ہوتا اور بعد چند سال کے کہانا لوجہ اللہ تعالی کھلانا بہی درست ہے ( فتاوی رشیدیہ، ص465 )

سالگرہ منانے کا جو طریقہ رائج ہے (مثلا کیک کاٹتے ہیں) یہ ضروری نہیں بلکہ قابل ترک ہے، غیروں کے ساتہ تشبہ لازم آتا ہے، البتہ اظہار خوشی اور خدا کا شکر ادا کرنا منع نہیں (فتاوی رحمیۃ، متفرقات حظر و الاباحتہ، ص226 )

سوال: سالگرہ اور میلاد شریف

جواب: سالگرہ (پیدائش سے سال بہر پورا ہونے پر تقریب اور خوشی منانا) یہ اسلامی تعلیم نہیں ہے یہ غیروں کا طریقہ ہے اس سے پرہیز چاہئے مروجہ طریقہ پر میلاد شریف کرنا بہی دلائل شرعیہ سے ثابت نہیں- چھ صدی تک اس کا وجود نہیں تھا اس کے بعد اربل کے بادشاہ نے اس کو ایجاد کیا ہے پہر اس میں بہت سی غلط چیزیں اور بھی شامل یوگئیں ان سب غلط چیزوں سے بچ کر حضرت  نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر مبارک مثلا حدیث شریف پڑھ کر سنا کر ہو یا بصورت وعظ ہو نہایت ہی موجب برکت اور سعادت کی چیز ہے

فتاوی محمودیۃ (180/3) دار الافتاء

سوال: نام رکھائی کے لڈو یا کیک تقسیم کرنا اور سالگرہ منانا کیا اسلام میں جائز ہےَ

جواب: عہد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم خیر القرون اور سلف صالحین کے زمانہ میں نام رکھائی اور سالگرہ وغیرہ کی مسرفانہ تقریبات نہیں ہوا کرتی تھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنی صاحب زادیوں نوا سے اور نواسیوں کے نام رکھے ہیں لیکن کبھی بھی اس طرح کا اہتمام نہیں کیا گیا، اسی طرح یوم ولادت میں دعوت وغیرہ کا اہتمام جسے آجکل سالگرہ کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ  صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین سے ثابت نہیں، یہ مغربی اقوام سے متاثر ہونے کا نتیجہ ہے چوں کہ اسے دینی عمل سمجھ کر انجام نہیں دیا جاتا اس لۓ اسے بدعت تو نہیں ک سکتے  کیوں کہ بدعت کا تعلق امر دین سے ہوتا ہے لیکن غیر مسلموں سے مماثلت اور غیر اسلامی تہذیب سے تاثر اور مشابہت کی وجہ سے کراہت سے بھی خالی نہیں

کتاب الفتاوی (405/1) زمزم پبلشرز

سوال: سالگرہ کی شرعی حیثیت؟

جواب: اسلام میں اس قسم کے رسم ورواج کا کوئ ثبوت نہیں ہے خیر القرون میں کسی صحابی تابعی تبع تابعین یا ائمۃ اربعہ میں کسی سے مروجہ طریقہ پر سالگرہ منانا ثابت نہیں یہ رسم بد انگریزوں کی ایجاد کردہ ہے ان کی دیکھا دیکھی کچھ مسلمانوں میں بھی یہ رسم سرایت کرچکی ہے- اس لۓ اس رسم کو ضروری سمجھنا ایسی دعوت میں شرت کرنا اور تحفے تحائف دینا فضول ہے شریعت مقدسہ میں اس کی قطعا اجازت نہیں

فتاوی حقانیۃ (75/2) جامعۃ حقانیہ

سوال: سالگرہ منانے کی رسم؟

جواب: سالگرہ منانا کوئی شرعی تقریب نہیں ہے ایک حساب اور تاریخ کی یادگار ہے اس کے لۓ یہ تمام فضولیات محض عبث اور التزام ما لا یلزم میں داخل ہیں

کفایۃ المفتی (85/9) دار الاشاعت

 

Facebooktwitterpinteresttumblrmail
Sidebar