Is it allowed to use animals as test subjects, for causes like the development of make-up, medicine (and other comparable things)

Answered according to Hanafi Fiqh by AnswersToFatawa.com

Salam wa aleikum Shaykh,

Is it allowed to use animals as test subjects, for causes like the development of make-up, medicine (and other comparable things), while the animals are subjected to bodily/mental harm?

Wa aleikum salam

Answer:

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Almighty Allah Ta`ala has created everything including animals for the benefit of mankind. Allah Ta`ala says:

{هُوَ الَّذِي خَلَقَ لَكُمْ مَا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا} [البقرة: 29]

Translation:

“It is He who created for you whatever is on earth (as well as the earth itself)”.

If there is a need to use animals to conduct experiments for human needs for example medication etc, it is permissible to do so[1].

And Allah Ta’āla Knows Best

Hafizurrahman Fatehmahomed

Student Darul Iftaa
Netherlands

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai

 

 

[1]

زمین کی تمام مخلوقات معدنیات، نباتات حیوانات کو اللہ تعالی نے انسان کے فائدہ کے لیے وجود بخشا ہے، بنابریں انسان کے لیے ان چیزوں کو کاٹ چہانت کر، کوٹ پیس کر بلکہ جلا کر اور کیمیائی تحلیل کے طریقوں سے استعمال کرنا اور فائدہ حاصل کرنا جائز اور درست ہے- اسی طرح حیوانات پر میڈکل تجربات بہی جائز ہے کیونکہ یہ بہی فائدہ ہی کی ایک قسم ہے (فتاوی دار العلوم زکریا، ج6، ص803 )

مختلف دواؤں کے اثرات اور فائدوں کا تجربہ کرنے کے لۓ بسا اوقات جانوروں کا استعمال کرنا پرتا ہے- پہلے ان کے جسم میں ایسے جراثیم داخل کۓ جاتے ہیں جو اس بماری کو پیدا کردیں- پہر ان ممکنہ دواؤں کو ان پر آزمایا جاتا ہے جو ان امراض کے لۓ مفید ثابت ہو سکتی ہوں – یہ صورتیں جائز ہیں- اس میں شبہ نہیں کہ اسلام نے جانوروں کو خواہ مخواہ اذیت دینے اور اس کے مشاہدہ کو اپنے لۓ سامان تفریح بنانے کی اجازت نہیں دی ہے- لیکن دوسری طرف اس نے یہ تصور بہی پیش کیا ہے کہ کائنات کی تمام اشیاء انسان کے لۓ خادم ہیں، اسی لۓ جانوروں کی سواری ، ان کے گوشت کو غزا، چمڑوں کو لباس اور کسی عضو انسانی کی صحت کے لۓ اس کے جسم میں پیوندکاری کی اجازت دی گئ ہے مذکورہ صورتوں میں بہی چوں كہ تفریح اور بے مقصد اذیت رسانی نہیں ہے۔ بلکہ انسان کی ایک واقعہ اور لازمی ضرورت کے لۓ ان سے خدمت لینا اور استفادہ کرنا اصل منشاء ہے اس لۓ اس میں کوئی مضائقہ نہیں (جدید فقہی مسائل ، ج1، ص226 )

یہ طریقہ بلاشبہ جائز ہے، اللہ تعالی نے حیوانات کو انسان کے نفع کے لۓ پیدا فرمایا ہے، اس لۓ ان سے انتفاع میں ان کو کچہ تکلیف بہی ہو تو کچہ حرج نہیں، اسی لۓ گوشت کی بہتری کی غرض سے حیوان ان کا خصی کرنا بالاتفاق جائز ہے۔ حضور اکرم نے خصی دنبوں کی قربانی کی ہے، خصی کرنے کی تکلیف انجکشن لگانے سے بہی بہت زیادہ ہے ( احسن الفتاوی، ج8، ص224 )

 

Facebooktwitterpinteresttumblrmail
Sidebar