In which situation can one pray Salaah with shoes on?

in which situation is it permissible to pray salah with shoes on? Please give my salaam to Shaykh Ebrahim Desai by Allah i love him and benefit from him allot

Answer

In the Name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful.

As-salāmu ‘alaykum wa-rahmatullāhi wa-barakātuh.

Salah may be performed with shoes on only in situations wherein there is a dire need for example; one is on a muddy or thorny terrain. However the shoes should not have any impurities on them.

One should avoid praying Salah with shoes on in normal circumstances. 

 

 

 

And Allah Ta’āla Knows Best

Abdullah ibn Mohammed Aijaz

Student Darul Iftaa
Baltimore, USA

Checked and Approved by,
Mufti Ebrahim Desai.

 

فتاوی محموديہ 13/66

جوتی پہن کر نماز پڑہنا ثابت ہے ـ اس وقت عامۃ راستوں کا وہ حال نہیں تہا جو کہ جگہ جگہ غلاظت کی وجہ سے اب ہو گیا ہے ـ نیز مسجد میں کنکر پڑی ہوئ تہی ، دری فرش وغیرہ بچہا ہوا نہیں تہا ـ جیسا کہ اب ہے ـ اس لۓ اب فقہاء نے جوتا پہن کر مسجد میں داخل ہونے کو مکروہ لکہا ہے ـ جیسا کہ فتاوی عالمگیری میں ہے کہ اگر جوتا پاک ہو تب بہی یہ احترام مسجد کے خلاف ہے ـ عید گاہ میں اگر گہاس پر نماز پڑہی جاۓ تو وہاں توسع ہے ـ مگر فتنہ سے بچنا لازم ہے

 

آپ کے مسائل اور ان کا حل جلد 3 صفحہ نمبر: 329

جوتوں سمیت نماز پڑھنا

س… سعید بن یزید ازدی نے خبر دی کہا میں نے انس بن مالک سے پوچھا: کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جوتیاں پہن کر نماز پڑھتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہاں! ابنِ بطال نے کہا کہ: جوتے پاک ہوں تو ان میں نماز پڑھنا جائز ہے۔ میں کہتا ہوں مستحب ہے، کیونکہ ابوداوٴد اور حاکم کی حدیث میں ہے کہ یہودیوں کے خلاف کرو، وہ جوتوں اور موزوں میں نماز نہیں پڑھتے اور حضرت عمر نماز میں جوتے اُتارنا مکروہ جانتے تھے، اس کے متعلق وضاحت فرمائیں۔

شوکانی نے کہا: صحیح اور قوی مذہب یہی ہے کہ جوتیاں پہن کر نماز پڑھنا مستحب ہے، اور جوتیوں میں اگر نجاست ہو تو زمین پر رگڑ دینے سے پاک ہوجاتی ہیں۔ خواہ کسی قسم کی نجاست ہو، خشک جرم دار ہو یا بے جرم۔ اس میں جرم دار سے کیا مراد ہے؟

ج… جوتوں میں نماز پڑھنا جائز ہے، بشرطیکہ وہ پاک ہوں، تاہم اس میں چند اُمور قابلِ لحاظ ہیں:

اوّل:… سجدے میں اُنگلیوں کا زمین سے لگنا ضروری ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں جس وضع کے جوتے (نعال، چپل) پہنے جاتے تھے وہ زمین پر اُنگلیوں کے لگنے سے مانع نہیں تھے۔ اگر کسی نے اسی وضع کے جوتے پہن رکھے ہوں تو ان کے اندر نماز پڑھنے میں کوئی اِشکال نہیں، لیکن اگر جوتے بند اور سخت ہوں جو اُنگلیوں کے زمین پر لگنے سے مانع ہوں تو ان کو پہن کر نماز پڑھنا محلِ اِشکال ہے۔

دوم:… آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مسجد کا فرش پختہ نہیں تھا، بلکہ کچے فرش پر کنکریاں تھیں، اس لئے وہ حضرات جوتے سمیت اس فرش پر چلتے تھے اور اس کو عرف میں بے ادبی نہیں سمجھا جاتا، جیسا کہ اب بھی جو مسجد زیرِ تعمیر ہو اس کے کچے فرش پر جوتوں سمیت چلنے کا معمول ہے، برعکس اس کے آج کل مساجد کے فرش پختہ ہیں اور ان پر دری، قالین وغیرہ کا فرش رہتا ہے، اور ایسے فرش کو جوتوں سے روندنا عرفاً سوءِ ادب شمار کیا جاتا ہے، اسی کے ساتھ یہ اضافہ بھی کرلیا جائے کہ مدینہ طیبہ کی پاک گلیاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں خشک اور پاک ہوتی تھیں، ان پر چلنے سے جوتے آلودہٴ نجاست نہیں ہوتے تھے، اس کے برعکس آج کی گلیوں اور بازاروں میں جوتوں کا پاک رہنا ازبس مشکل ہے، اس لئے آج کل مسجد میں ایسے جوتے پہن کر آنا، انہی جوتوں سے قالین اور فرش کو روندتے ہوئے گزرنا، اور پھر انہی آلودہ جوتوں میں نماز ادا کرنا یا اس کی اجازت دینا مشکل ہے۔

سوم:… جیسا کہ سوال میں ذکر کیا گیا ہے کہ جوتوں میں نماز پڑھنے کا حکم یہود کی مخالفت کے لئے دیا گیا تھا، گویا جوتوں میں نماز پڑھنا بذاتِ خود کوئی نیک کام نہیں، لیکن اپنے مقصد یعنی یہود کی مخالفت کی وجہ سے اس کو مستحب قرار دیا گیا۔ آج یہود کا جوتے اُتارنا یا نہ اُتارنا تو کسی کو معلوم بھی نہیں، لیکن نصرانیوں کا بوٹوں سمیت عبادت گاہوں کو روندنا سب کو معلوم ہے، پس جس طرح مخالفتِ یہود کی بنا پر یہ فعل مستحب تھا، آج انگریزوں کی موافقت و تقلید کی بنا پر یہ فعل مکروہ ہونا چاہئے۔

چہارم:… علامہ شوکانی نے جوتوں میں نماز پڑھنے کو مستحب کہا ہے، حدیث شریف کے پیشِ نظر ہمارے نزدیک بھی مستحب ہے، بشرطیکہ مذکورہ بالا اُمور کو ملحوظ رکھا جائے، ورنہ یہی فعل مکروہ ہوگا، چنانچہ بعض اکابر (صحابہو تابعین و ائمہ دین) نے ان شرائط کے بغیر مکروہ قرار دیا ہے، ان اقوال کی تفصیل شیخ کوثری کے مقالات (صفحہ:۱۷۰ وما بعد پر) دیکھ لی جائے۔

پنجم:… جوتوں کو اگر نجاست لگ جائے وہ جسم والی ہو اور خشک ہوجائے تو رگڑنے سے پاک ہوجائیں گے، لیکن اگر نجاست جسم دار نہ ہو جیسے شراب اور پیشاب یا جسم والی تو ہو مگر خشک نہ ہو بلکہ تر ہو، صرف رگڑنے سے جوتے پاک نہیں ہوں گے، کیونکہ اس صورت میں رگڑنے سے نجاست زائل نہیں ہوتی، اس لئے علامہ شوکانی کا یہ کہنا کہ رگڑنے سے ہر نجاست پاک ہوجاتی ہے، عقل و نقل دونوں کے خلاف ہے۔

PG.9-21 رفع الاشتباه عن مسألتي كشف الرؤوس ولبس النعال في الصلاة للكوثري

pastedGraphic.png

pastedGraphic_1.png

 

فتاوی دار العلوم زکریا جلد 2 صفحہ نمبر: 602

 

نجم الفتاوی جلد 2 صفحہ نمبر: 279

 

غاية المقال فيما يتعلق بالنعال (ص: 63)

وأمَّا الأفضليَّة: فإنَّ أرادَ به اقتداءَ النَّبيِّ صلَّى اللهُ عليه وعلى آلهِ وسلَّم فنعم، وإلاَّ فهو فعلٌ مباحٌ من الرُّخصِ الشَّرعيَّة، هذا هو الذي نصَّ عليه المحقِّقونَ من الفقهاءِ والمحدِّثين وعامَّةُ الفقهاءِ يقتصرونَ على قولِهم: المستحبُّ أن يصلِّيَ في ثلاثةِ أثواب: الإزارُ والقميصُ والعِمَامة، ولم يذكرُوا النَّعل، فافهم

– مسألة –

يشترطُ لصحَّةِ الصَّلاةِ طهارةُ النَّعلِ أيضاً، كما يشترطُ طهارةُ باقي ثيابِه.

(ص 447) لَمَّا لم تكره الصَّلاة متنعلاً مع كونها أرفع العبادات، لا تكره زيارة القبور متنعلاً بالطريق الأولى  

 

المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة (1/ 238)

وروى المعلى عن محمد رحمه الله أنه قال: الروث لا يمنع جواز الصلاة وإن كان كثيراً فاحشاً، قيل: هذا آخر قوله رجع إلى هذا القول حين طلع مع الخليفة إلى الري، ورأى أسواقهم وسككهم مملوءة من الأرواث، فرجع إلى هذا القول لدفع البلوى قال مشايخنا على قياس هذه الرواية لا يمنع جواز الصلاة وإن كان كثيراً فاحشاً، مع أن التراب مخلوط في العذرات دفعاً للبلوى، وكان الشيخ الإمام الأجل شمس الأئمة الحلواني رحمه الله لا يعتمد على هذه الرواية، وكان يقول البلوى إنما تكون في النعال والنعال مما يمكن خلعها، وقد اعتاد الناس خلع النعال، وليس فيه كثير ضرورة والصلاة بغير النعل أحمد، والكثير الفاحش فيه يمنع جواز الصلاة.

 

سنن أبي داود ت الأرنؤوط (1/ 485)

عن أبي سعيد الخُدْري قال: بينما رسولُ الله – صلى الله عليه وسلم – يُصلّي بأصحابه إذ خلعَ نَعلَيهِ، فوضعهما عن يَسَاره، فلمَّا رأى ذلك القومُ ألقَوا نِعالَهم، فلمّا قضى رسولُ الله – صلى الله عليه وسلم – صلاتَه قال: “ما حَمَلَكم على إلقائِكم نِعالَكم؟ ” قالوا: رأيناكَ ألقَيتَ نَعلَيك فألقينا نِعالَنا، فقال رسولُ الله – صلى الله عليه وسلم -: “إن جبريلَ عليه السلام أتاني فأخبرني أنَّ فيهما قَذَراً” وقال: “إذا جاء أحدُكم إلى المَسجدِ فلينظُر، فإن رأى في نَعلَيهِ قَذَراً أو أذًى فليَمسَحهُ وليُصَلِّ فيهما” (1).

__________

(1) إسناده صحيح. حماد: هو ابن سلمة، وأبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قِطعة.

وأخرجه الطيالسي (2154)، وابن سعد في “الطبقات” 1/ 480، وابن أبي شيبة 1/ 417 و418، وأحمد (11153) و (11877)، وعبد بن حميد (880)، والدارمي 1/ 230، وأبو يعلى (1194)، وابن خزيمة (1017)، والطحاوي 1/ 511، وابن حبان (2185)، والحاكم 1/ 260، والبيهقى 2/ 402، والبغوي في “شرح السنة” (299) من طرق عن حماد بن سلمة، بهذا الإسناد.

وأخرجه عبد الرزاق (1516) عن معمر، عن أيوب، عن رجل حدثه عن أبي سعيد الخدري.

وأخرجه البيهقي 2/ 403 من طريق داود بن عبد الرحمن العطار، عن معمر، عن أيوب، عن أبي نضرة، عن أبي سعيد. وقال البيهقي عن هذا الطريق: غير محفوظ.

وانظر ما بعده.

قال ابن رسلان: الأذى في اللغة: هو المستقذر طاهراً كان أو نجساً.

قال الصنعاني: وفي الحديث دلالة على شرعية الصلاة في النعال، وعلى أن مسح النعل من النجاسة مطهر له من القذر والأذى، والظاهر فيهما عند الإطلاق النجاسة، وسواء كانت النجاسة رطبة أو جافة ويدل له سبب الحديث.

وقال الخطابي: فيه من الفقه أن من صلى وفي ثوبه نجاسة لم يعلم بها فإن صلاته مجزية ولا إعادة عليه، وفيه أن العمل اليسير لا يقطع الصلاة

صحيح البخاري (1/ 86)

386 – حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ سَعِيدُ بْنُ يَزِيدَ الأَزْدِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ: أَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي فِي نَعْلَيْهِ؟ قَالَ: «نَعَمْ»

__________  

[تعليق مصطفى البغا]

379 (1/151) -[  ش أخرجه مسلم في المساجد ومواضع الصلاة باب جواز الصلاة في النعلين رقم 555]

فتح الباري لابن حجر (1/ 494)

قَوْله يُصَلِّي فِي نَعْلَيْه قَالَ بن بَطَّالٍ هُوَ مَحْمُولٌ عَلَى مَا إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِمَا نَجَاسَةٌ ثُمَّ هِيَ مِنَ الرُّخَصِ كَمَا قَالَ بن دَقِيقِ الْعِيدِ لَا مِنَ الْمُسْتَحَبَّاتِ لِأَنَّ ذَلِكَ لَا يَدْخُلُ فِي الْمَعْنَى الْمَطْلُوبِ مِنَ الصَّلَاةِ وَهُوَ وَإِنْ كَانَ مِنْ مَلَابِسِ الزِّينَةِ إِلَّا أَنَّ مُلَامَسَتَهُ الْأَرْضَ الَّتِي تَكْثُرُ فِيهَا النَّجَاسَاتُ قَدْ تَقْصُرُ عَنْ هَذِهِ الرُّتْبَةِ وَإِذَا تَعَارَضَتْ مُرَاعَاةُ مَصْلَحَةِ التَّحْسِينِ وَمُرَاعَاةُ إِزَالَةِ النَّجَاسَةِ قُدِّمَتِ الثَّانِيَةُ لِأَنَّهَا مِنْ بَابِ دَفْعِ الْمَفَاسِدِ وَالْأُخْرَى مِنْ بَابِ جَلْبِ الْمَصَالِحِ قَالَ إِلَّا أَنْ يَرِدَ دَلِيلٌ بِإِلْحَاقِهِ بِمَا يَتَجَمَّلُ بِهِ فَيَرْجِعُ إِلَيْهِ وَيَتْرُكُ هَذَا النَّظَرَ قُلْتُ قَدْ رَوَى أَبُو دَاوُدَ وَالْحَاكِمُ مِنْ حَدِيثِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ مَرْفُوعًا خَالِفُوا الْيَهُودَ فَإِنَّهُمْ لَا يُصَلُّونَ فِي نِعَالِهِمْ وَلَا خِفَافِهِمْ فَيَكُونُ اسْتِحْبَابُ ذَلِكَ مِنْ جِهَةِ قَصْدِ الْمُخَالَفَةِ الْمَذْكُورَةِ وَوَرَدَ فِي كَوْنِ الصَّلَاةِ فِي النِّعَالِ مِنَ الزِّينَةِ الْمَأْمُورِ بِأَخْذِهَا فِي الْآيَةِ حَدِيثٌ ضَعِيفٌ جِدًّا أَوْرَدَهُ بن عدي فِي الْكَامِل وبن مَرْدَوَيْهِ فِي تَفْسِيرِهِ مِنْ حَدِيثِ أَبِي هُرَيْرَةَ والعقيلي من حَدِيث أنس